نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے
اٹھا لے جائے تھوڑی خاک ان کے آستانہ سے
کوئی فردوس ہو یا خلد ہو ہم کو غرض مطلب
لگایا اب تو بستر آپ ہی کے آستانہ سے
تمہارے تو وہ احساں اور یہ نا فرمانیاں اپنی
ہمیں تو شرم سی آتی ہے تم کو منہ دکھانے سے
بہار خلد عاشق ہو رہی ہے روئے عاشق پر
کھلی جاتی ہیں کلیاں دل کی تیرے مسکرانے سے
زمیں تھوڑی سی دے دے بہر مدفن اپنے کوچے میں
لگا دے میرے پیارے میری مٹی بھی ٹھکانے سے
پلٹتا ہے جو زائر اس سے کہتا ہے نصیب اس کا
ارے غافل قضا بہتر ہے یاں کے پھر کے جانے سے
تمہارے در کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اک عالم
گزارہ سب کا ہوتا ہے اسی محتاج خانے سے
نہ پہنچے ان کے قدموں تک نہ کچھ حسن عمل ہی ہے
حسنؔ کیا پوچھتے ہو ہم گئے گزرے زمانے سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.