Font by Mehr Nastaliq Web

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

حسن رضا بریلوی

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

حسن رضا بریلوی

MORE BYحسن رضا بریلوی

    نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

    اٹھا لے جائے تھوڑی خاک ان کے آستانہ سے

    کوئی فردوس ہو یا خلد ہو ہم کو غرض مطلب

    لگایا اب تو بستر آپ ہی کے آستانہ سے

    تمہارے تو وہ احساں اور یہ نا فرمانیاں اپنی

    ہمیں تو شرم سی آتی ہے تم کو منہ دکھانے سے

    بہار خلد عاشق ہو رہی ہے روئے عاشق پر

    کھلی جاتی ہیں کلیاں دل کی تیرے مسکرانے سے

    زمیں تھوڑی سی دے دے بہر مدفن اپنے کوچے میں

    لگا دے میرے پیارے میری مٹی بھی ٹھکانے سے

    پلٹتا ہے جو زائر اس سے کہتا ہے نصیب اس کا

    ارے غافل قضا بہتر ہے یاں کے پھر کے جانے سے

    تمہارے در کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اک عالم

    گزارہ سب کا ہوتا ہے اسی محتاج خانے سے

    نہ پہنچے ان کے قدموں تک نہ کچھ حسن عمل ہی ہے

    حسنؔ کیا پوچھتے ہو ہم گئے گزرے زمانے سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے