نوازیں موت سے یا زندگی بخشیں خوشی ان کی
نوازیں موت سے یا زندگی بخشیں خوشی ان کی
محمد مصطفیٰ میرے ہیں، میری زندگی ان کی
خدا کے قرب کو، ان کا توسل شرطِ اول ہے
حقیقت میں خدا کی دوستی ہے، دوستی ان کی
میرا بننا بگڑنا، نام ہے ان کی مشیت کا
مقدس ہے مجھے وہ امر جس میں ہو خوشی ان کی
شعارِ کج روی، شائستہ گامی سے بدل جائے
یہ دنیا کاش اب بھی سیکھ لے شائستگی ان کی
شبِ معراج بستر گرم تھا، زنجیر ہلتی تھی
کہ جب عرشِ معلیٰ سے ہوئی تھی واپسی ان کی
نبی کے ذکر سے ڈوبی ہوئی نبضیں ابھر آئیں
یہ کس نے نزع کے عالم میں، مجھ سے بات کی
نہ جانے کیوں، غمِ دنیا نے مجھ سے پھیر لیں آنکھیں
بس اتنا جانتا ہوں یاد آئی تھی ابھی ان کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.