Font by Mehr Nastaliq Web

اندھیرے میں تم ہو ضیا شاہ قاتل

ناز

اندھیرے میں تم ہو ضیا شاہ قاتل

ناز

MORE BYناز

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔

    اندھیرے میں تم ہو ضیا شاہ قاتل

    حقیقت کے تم رہنما شاہ قاتل

    بہاروں کو ہے جستجو گلستاں میں

    تمہیں ڈھونڈتی ہے فضا شاہ قاتل

    ہوئی راہ دشوار منزل کی میری

    ہوئے آپ جب سے جدا شاہ قاتل

    ہے تسکینِ دل نام اقدس تمہارا

    تصور ہے راحت فزا شاہ قاتل

    جھکا کر جبیں آستاں پر تمہارے

    ملی مجھ کو یادِ خدا شاہ قاتل

    نہ موجوں کا ڈر ہے نہ طوفاں کا ڈر ہے

    ہو کشتی کے تم ناخدا شاہ قاتل

    رہوں نازؔ تا عمر دنیا میں شاداں

    مرے حق میں کیجے دعا شاہ قاتل

    نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 48)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے