توصیفِ نبی کرتا رہوں بس ایسے گزر دن رات کروں
توصیفِ نبی کرتا رہوں بس ایسے گزر دن رات کروں
ہر لمحہ و ساعت شام و سحر محبوبِ خدا کی بات کروں
کچھ خواہش تاج و تخت نہیں بس دل میں یہ حسرت ہے آقا
بن جاؤں تمہارے در کا گدا خوش ہو کے گزر اوقات کروں
غم اور اداسی اے آقا ہوتی ہی چلی جاتی ہے سوا
اب جلد بلا لیجیے در پر خدمت میں بیاں حالات کروں
جب دیکھوں روضۂ والی کو جب چوموں میں سنہری جالی کو
پھر ذکرِ سکونِ دل چھیڑوں تسکینِ نظر کی بات کروں
میں ادنیٰ ہوں اعلیٰ وہ ہیں میں منگتا ہوں داتا وہ ہیں
مری اپنی حقیقت ہی کیا ہے کیا اپنی بیاں اوقات کروں
ہر لمحہ جلے اک دیپ نیا اس دل میں نبی کی الفت کا
ہر دم ہر وقت درودوں کی ان پر یوں ہی برسات کروں
اصحابِ نبی اور آلِ نبی کا روزِ ازل سے ہوں خادم
کیوں اور کسی کا ذکر سنو کیوں اور کسی کی بات کروں
اب تو یہ تمنا ہے دل میں سرکار جو میرے گھر آئیں
تو پیش خلوصِ دل سے انہیں میں نعتوں کی ساغات کروں
کہتا ہے ندیمؔ اے رب صمد اب لب جو کھلیں تو تا بہ ابد
بس حمد ہو تیری شام و سحر اور ذکرِ نبی دن رات کروں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.