ہے چہرہ چاند ساری شخصیت ہے چاندنی آ ہا
ہے چہرہ چاند ساری شخصیت ہے چاندنی آ ہا
گواہی دی نگاہوں نے تمہی یٰسیں تمہی طاہا
بہ صد پیرایہ ہر سو انعکاسِ حسنِ گل دیکھا
تکلم ہا تبسم ہا تجلی ہا تماشا ہا
یہ صبر و حلم و وقر و نظم کے داعی کا مکتب ہے
صدا اونچی نہ یاں اٹھے خدا کے واسطے ”ہاہا“
بچارے آدمی کی آزمائش کتنی مشکل ہے
مسلسل کشمکش مابینِ طغواہا وتقوٰہا
انوکھا ہے سفر بھی، راه بھی اے جادہ پیماؤ
کہیں ہے کوئی دوراہا کہیں آتا ہے چوراہا
حضورِ پاک شاہی کو مٹانے کے لیے آئے
ملے اذنِ تخاطب تو کہوں میں کس طرح ”شاہا“
خرد بھٹکی نہ پھر اپنی تمہیں جس روز سے سمجھا
نظر بہکی نے پھر اپنی تمہیں جس روز سے چاہا
پریشاں بھیڑیوں کے درمیاں اقوام کا ریوڑ
تحفظ ان کا ہو کیسے نہیں ہے کوئی چرواہا
مرے اعمال نامے سے بس اک نیکی یہی نکلی
کہ میں نے ان کو پورے دل سے پوری جان سے چاہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.