Font by Mehr Nastaliq Web

ہے چہرہ چاند ساری شخصیت ہے چاندنی آ ہا

نعیم صدیقی

ہے چہرہ چاند ساری شخصیت ہے چاندنی آ ہا

نعیم صدیقی

MORE BYنعیم صدیقی

    ہے چہرہ چاند ساری شخصیت ہے چاندنی آ ہا

    گواہی دی نگاہوں نے تمہی یٰسیں تمہی طاہا

    بہ صد پیرایہ ہر سو انعکاسِ حسنِ گل دیکھا

    تکلم ہا تبسم ہا تجلی ہا تماشا ہا

    یہ صبر و حلم و وقر و نظم کے داعی کا مکتب ہے

    صدا اونچی نہ یاں اٹھے خدا کے واسطے ”ہاہا“

    بچارے آدمی کی آزمائش کتنی مشکل ہے

    مسلسل کشمکش مابینِ طغواہا وتقوٰہا

    انوکھا ہے سفر بھی، راه بھی اے جادہ پیماؤ

    کہیں ہے کوئی دوراہا کہیں آتا ہے چوراہا

    حضورِ پاک شاہی کو مٹانے کے لیے آئے

    ملے اذنِ تخاطب تو کہوں میں کس طرح ”شاہا“

    خرد بھٹکی نہ پھر اپنی تمہیں جس روز سے سمجھا

    نظر بہکی نے پھر اپنی تمہیں جس روز سے چاہا

    پریشاں بھیڑیوں کے درمیاں اقوام کا ریوڑ

    تحفظ ان کا ہو کیسے نہیں ہے کوئی چرواہا

    مرے اعمال نامے سے بس اک نیکی یہی نکلی

    کہ میں نے ان کو پورے دل سے پوری جان سے چاہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے