Font by Mehr Nastaliq Web

عابد کبریا امام حسین

نعیم الدین مرادآبادی

عابد کبریا امام حسین

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت امام حسین (کربلا-عراق)

    عابد کبریا امام حسین

    زاہد بے ریا امام حسین

    گلِ گلزار سیدِ عالم

    مہ جبیں خوش لقا امام حسین

    حضرت فاطمہ کے نور نظر

    دینِ حق کی ضیا امام حسین

    قرۃ العین حضرت حیدر

    سیدِ اؤلیا امام حسین

    سبط اکبر کے راحتِ دل و جاں

    قوتِ مجتبیٰ امام حسین

    دین کے پیشوا امام حسین

    رہنما مقتدا امام حسین

    جملہ اصحاب کے قرارِ دل

    وارثِ انبیا امام حسین

    جانثارانِ دین کے سرخیل

    ہادی و پیشوا امام حسین

    وہ شہادت کو ناز ہو جن پر

    اہلِ صبر و رضا امام حسین

    صاحبِ عدل و داد و علم و کرم

    تاج اہلِ سخا امام حسین

    حامی دین ناصر ملت

    دین حق پر فدا امام حسین

    کربلا کی زمین پہ خوں سے لکھا

    تم نے نامِ وفا امام حسین

    تم نے دکھلا دیا زمانے کو

    نقش صدق و صفا امام حسین

    دھوم عالم میں ہے شجاعت کی

    کام ایساکیا امام حسین

    کیسے کیسے ستم ہوئے تم پر

    عاشق اکبر یا امام حسین

    راہِ حق میں کٹا یا سب کنبہ

    مرحبا مرحبا امام حسین

    تین دن تک پیاس میں تڑپا

    تیرا سب قافلہ امام حسین

    نونہال اپنے تم نے نذر کیے

    فخرِ صبر و رضا امام حسین

    فوج ظالم کی روسیاہ ہوئی

    کرکے ظلم و جفا امام حسین

    تیری صولت سے تیرے اعدا میں

    تہلکہ پڑگیا امام حسین

    تیری تلوار کا جہاں میں ہے

    آج تک غلغلہ امام حسین

    کاٹے ہر وار میں پرے کے پرے

    رو دیے اشقیا امام حسین

    جلوہ افروز کربلا میں ہوئے

    سید انبیا امام حسین

    آپ کو دائمی حیات ملی

    اے امام ہدیٰ امام حسین

    سب جہاں میں تمہارا قبضہ ہے

    فاتح کربلا امام حسین

    سارے عالم کے مؤمنوں کے لیے

    رب سے کیجیے دعا امام حسین

    آپ سے رکھتے ہیں امیدِ کرم

    رنج کے مبتلا امام حسین

    اس نعیمؔ گناہ گار پہ لطف

    اے شہِ اصفیا امام حسین

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 17)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے