Font by Mehr Nastaliq Web

کھول دو سینہ مرا فاتحِ مکہ آکر

نعیم الدین مرادآبادی

کھول دو سینہ مرا فاتحِ مکہ آکر

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    دلچسپ معلومات

    ترجیع بند۔

    کھول دو سینہ مرا فاتحِ مکہ آکر

    کعبۂ دل سے صنم کھینچ کے کر دو باہر

    پردے غفلت کے نگاہوں سے ہٹا دو یکسر

    مجھ سیہ کار پہ فرما دو عنایت کی نظر

    نورِ ایماں سے مرا سینہ منور کر دو

    دل میں عشق رخ پُرنور کا جذبہ بھر دو

    دل تاریک کرم ہو تو مجلی ہو جائے

    تیرہ آئینہ توجہ سے مصفا ہو جائے

    سینہ انوار گہِ جلوۂ مولیٰ ہو جائے

    دل میں تم آؤ تو دل عرش معلیٰ ہو جائے

    نور ایماں سے مِرا سینہ منور کردو

    دل میں عشق رخ پُرنور کا جذبہ بھر دو

    دل میں حرص و ہوس و خواہش دنیا نہ رہے

    آپ کا عشق رہے غیر کا خطرہ نہ رہے

    آپ کی یاد ہو سر میں کوئی سودا نہ رہے

    دل مدینہ رہے اور دیر و کلیسا نہ رہے

    نور ایماں سے مرا سینہ منور کردو

    دل میں عشق رخ پُرنور کا جذبہ بھر دو

    جلوہ فرمائیے قالب میں مری جاں ہو کر

    سلطنت کیجیے اس جسم میں سلطاں ہوکر

    آپ میں ہو کے فنا آپ پہ قرباں ہو کر

    قدسیوں کو بھی تو دکھلا دوں میں حیراں ہوکر

    نورِ ایماں سے مرا سینہ منور کر دو

    دل میں عشق رخ پُرنور کا جذبہ بھر دو

    بندۂ در گہِ عالی پہ نعیمؔ بے کس

    شامتِ نفس سے ہے آہ گرفتار ہوس

    کیجیے اس کو رہا توڑیے سب بند و قفس

    دردِ لب تادمِ آخر رہے نامِ اقدس

    نورِ ایماں سے مرا سینہ منور کر دو

    دل میں عشق رخ پُرنور کا جذبہ بھر دو

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 25)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے