شفیع روزِ محشر اے شہنشاہِ زماں تم ہو
شفیع روزِ محشر اے شہنشاہِ زماں تم ہو
مقیم عرشِ اعلیٰ ہو مکینِ لا مکاں تم ہو
ترے رتبہ سے بالا مرتبہ کس کا ہے دنیا میں
رفیقِ بیکساں تم ہو انیس بیکساں تم ہو
کلیجہ کیوں نہ ٹھنڈا ہو تمہارا نام لینے سے
محمد مصطفیٰ تم ہو حبیب دو جہاں تم ہو
یہاں پر میں تڑپتا ہوں تمہارے درد فرقت میں
مجھے قسمت پہ ان کی رشک ہے مولیٰ جہاں تم ہو
جو تم سے پھر گیا مولیٰ ٹھکانا ہے کہاں اس کا
خدا بھی مہرباں اس پر کہ جس پر مہرباں تم ہو
چلے گا قافلہ امت کا جب میدانِ محشر کو
نہیں خطرہ ہمیں جب کہ امیرِ کارواں تم ہو
حسابِ زندگی در پیش ہوگا جب قیامت میں
مجھے دامن میں ڈھک لینا پناہِ بےکساں تم ہو
تمہارے نام کا سکہ ہے جاری ساری دنیا میں
سلیماں کس طرح کہہ دوں کہ شاہِ دو جہاں تم ہو
ترے در سے کہاں جائے نعیمؔ زار اے مولیٰ
حبیبِ دردِ دل تم ہو علاجِ دردِ جاں تم ہو
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 26)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.