Font by Mehr Nastaliq Web

وہ کہنے لگے شب بسر ہوگئی

نعیم الدین مرادآبادی

وہ کہنے لگے شب بسر ہوگئی

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    وہ کہنے لگے شب بسر ہوگئی

    اٹھو بھی کہ اب تو سحر ہو گئی

    وہ آنکھوں میں آئے وہ دل میں رہے

    رقیبوں کو کیسے خبر ہوگئی

    اشارے موثر ہوئے غیر کے

    مری آہ بھی بے اثر ہوگئی

    فصاحت سے کہتے ہیں موئے سفید

    کہ ہشیار ہو اب سحر ہوگئی

    خودی سے گزر چل خدا کی طرف

    کہ عمر گرامی بسر ہوگئی

    محبت کو ان کی مروت کو ان کی

    خدا جانے کس کی نظر ہوگئی

    بسا ہے وہ مجھ میں میں ڈھونڈوں کہاں

    تلاش اس کی دشوار تر ہوگئی

    غم و خونِ دل کھاتے پیتے رہے

    غریبوں کی اچھی گزر ہوگئی

    نعیمؔ سیہ کار مغفور ہوگا

    جو شاہِ جہاں کی نظر ہوگئی

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 28)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے