وہ کہنے لگے شب بسر ہوگئی
وہ کہنے لگے شب بسر ہوگئی
اٹھو بھی کہ اب تو سحر ہو گئی
وہ آنکھوں میں آئے وہ دل میں رہے
رقیبوں کو کیسے خبر ہوگئی
اشارے موثر ہوئے غیر کے
مری آہ بھی بے اثر ہوگئی
فصاحت سے کہتے ہیں موئے سفید
کہ ہشیار ہو اب سحر ہوگئی
خودی سے گزر چل خدا کی طرف
کہ عمر گرامی بسر ہوگئی
محبت کو ان کی مروت کو ان کی
خدا جانے کس کی نظر ہوگئی
بسا ہے وہ مجھ میں میں ڈھونڈوں کہاں
تلاش اس کی دشوار تر ہوگئی
غم و خونِ دل کھاتے پیتے رہے
غریبوں کی اچھی گزر ہوگئی
نعیمؔ سیہ کار مغفور ہوگا
جو شاہِ جہاں کی نظر ہوگئی
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 28)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.