عطائیں پوچھیے سرکار کی محتاج سائل سے
عطائیں پوچھیے سرکار کی محتاج سائل سے
اٹھائے ہوں جنہوں نے فیض ان کے بحر ساحل سے
مذاقِ دل ہے شیریں کام ان شیریں خصائل سے
مشامِ جاں ہوا ہے مست اس گل کے شمائل سے
امام اعظم و محبوب سبحانی شہ سمناں
پہنچتے ہیں نبی تک ہم انہیں اعلیٰ وسائل سے
وہ روئے حق نما مظہر ہے حسنِ بے مثالی کا
جمال ان کا منزہ ہے مقابل سے مماثل سے
سراپا نور ہیں وہ نور حق نورٌ علیٰ نورٍ
کمشکوٰۃٍ ہے شان ان کی انہیں کیا واسطہ ظل سے
بفضل اللہ نابینا نہیں ہوں کیسے دوں نسبت
کفِ پائے حبیبِ حق کو روئے ماہِ کامل سے
دلیل قدرتِ حق ہے مرا ہونا فنا ہونا
شہادت اپنی دلوا لیتے ہیں وہ حق و باطِل سے
جناب شیخ آئیں خدمتِ پیر طریقت میں
یہ عقدے حل نہیں ہوسکتے منطق کے مسائل سے
نگاہِ لطفل للہ اے قرار خاطرِ مضطر
کہ اب تو آگیا ہوں تنگ میں بے تابی دل سے
غرض کیا ہم کو بلبل سے اور اس کے گرم نالوں سے
نہیں گر دردِ دل میں فائدہ ذکرِ عنا دل سے
ہر اک شاہ و گدا کو جن کے در سے ملتا ہے صدقہ
نعیم الدینؔ بھی سائل ہے اسی دربار باذل سے
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 35)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.