Font by Mehr Nastaliq Web

عطائیں پوچھیے سرکار کی محتاج سائل سے

نعیم الدین مرادآبادی

عطائیں پوچھیے سرکار کی محتاج سائل سے

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    عطائیں پوچھیے سرکار کی محتاج سائل سے

    اٹھائے ہوں جنہوں نے فیض ان کے بحر ساحل سے

    مذاقِ دل ہے شیریں کام ان شیریں خصائل سے

    مشامِ جاں ہوا ہے مست اس گل کے شمائل سے

    امام اعظم و محبوب سبحانی شہ سمناں

    پہنچتے ہیں نبی تک ہم انہیں اعلیٰ وسائل سے

    وہ روئے حق نما مظہر ہے حسنِ بے مثالی کا

    جمال ان کا منزہ ہے مقابل سے مماثل سے

    سراپا نور ہیں وہ نور حق نورٌ علیٰ نورٍ

    کمشکوٰۃٍ ہے شان ان کی انہیں کیا واسطہ ظل سے

    بفضل اللہ نابینا نہیں ہوں کیسے دوں نسبت

    کفِ پائے حبیبِ حق کو روئے ماہِ کامل سے

    دلیل قدرتِ حق ہے مرا ہونا فنا ہونا

    شہادت اپنی دلوا لیتے ہیں وہ حق و باطِل سے

    جناب شیخ آئیں خدمتِ پیر طریقت میں

    یہ عقدے حل نہیں ہوسکتے منطق کے مسائل سے

    نگاہِ لطفل للہ اے قرار خاطرِ مضطر

    کہ اب تو آگیا ہوں تنگ میں بے تابی دل سے

    غرض کیا ہم کو بلبل سے اور اس کے گرم نالوں سے

    نہیں گر دردِ دل میں فائدہ ذکرِ عنا دل سے

    ہر اک شاہ و گدا کو جن کے در سے ملتا ہے صدقہ

    نعیم الدینؔ بھی سائل ہے اسی دربار باذل سے

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 35)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے