کمالِ حسن پردہ مستِ ناز لا ابالی ہے
کمالِ حسن پردہ مستِ ناز لا ابالی ہے
سنبھل کر اے دلِ مضطر ترا اللہ والی ہے
ارسطو کیا کہ نبض عاشقاں پر ہاتھ رکھنے سے
فلاطوں خود گر فتارِ بلائے خستہ حالی ہے
نہیں کچھ سینہ کاوی چل دیا شاید کہیں دلبر
کہ دل پہلو سے غائب ہے ہمارا سینہ خالی ہے
یہ کس نے روند ڈالا لاشۂ بے کس کو قدموں سے
کہ آنکھیں کھل گئیں جاں آگئی کیا پائمالی ہے
پھلیں نخل و شجر گلزار پھولیں چشمے ہوں جاری
برس اے چشم خوں افشاں جہاں میں قحط سالی ہے
فنا ہو اس میں جس کو ہو نہیں سکتی فنا ہرگز
یہ ہستی جس پہ تو مفتوں ہے تصویر خیالی ہے
ہنر ہی سے جہاں میں آدمی کی قدر ہوتی ہے
نعیمؔ بے ہنر مشہور تیری بے کمالی ہے
- کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 33)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.