Font by Mehr Nastaliq Web

نور نگاہ فاطمہ آسماں جناب

نعیم الدین مرادآبادی

نور نگاہ فاطمہ آسماں جناب

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت علی اکبر بن امام حسین (کربلا-عراق)

    نور نگاہ فاطمہ آسماں جناب

    صبر دلِ خدیجہ پاکِ ارم قباب

    لخت دلِ امام حسین ابن بو تراب

    شیر خدا کا شیر وہ شیروں میں انتخاب

    صورت تھی انتخاب تو قامت تھا لاجواب

    گیسو تھے مشک ناب تو چہرہ تھا آفتاب

    چہر سے شاہزادہ کے اٹھا ہی تھا نقاب

    مہر سپہر ہوگیا خجلت سے آب آب

    کاکل کی شام رخ کی سحر موسمِ شباب

    سنبل نثار شام فدائے سحر گلاب

    شہزادۂ جلیل علی اکبر جمیل

    بستان حسن میں گلِ خوش منظر شباب

    پالا تھا اہلِ بیت نے آغوش ناز میں

    شرمندہ اس کی نازکی سے شیشۂ حباب

    صحرائے کوفہ عالمِ انوار بن گیا

    چمکا جو رن میں فاطمہ زہرہ کا ماہتاب

    خورشید جلوہ گر ہوا پشت سمند پر

    یا ہاشمی جو ان کے رخ سے اٹھا نقاب

    صولت نے مرحبا کہا شوکت تھی رجز خواں

    جرأت نے باگ تھامی شجاعت نے لی رکاب

    چہرہ کو اس کے دیکھ کر آنکھیں جھپک گئیں

    دل کانپ اٹھے ہوگیا اعدا کو اضطراب

    سینوں میں آگ لگ گئی اعدائے دین کے

    غیظ و غضب کے شعلوں کے دل ہوگئے کباب

    نیزہ جگر شگاف تھا اس گل کے ہاتھ میں

    یا اژدھا تھا موت کا یا اسو العقاب

    چمکا کے تیغ مردوں کو نامرد کر دیا

    اس سے نظر ملاتا یہ تھی دل میں کس کے تاب

    کہتے تھے آج تک نہیں دیکھا کوئی جواں

    ایسا شجاع ہوتا جو اس شیر کا جواب

    مردانِ کار لرزہ بر اندام ہوگئے

    شیرا فگنوں کی حالتیں ہونے لگیں خراب

    کوہ پیکروں کو تیغ سے دو پارہ کر دیا

    کی ضرب خود پر تو اڑا ڈالا تارکاب

    تلوار تھی کہ صاعقہ برق بار تھا

    یا از برائے رجم شیاطین تھا شباب

    چہرہ میں آفتابِ نبوت کا نور تھا

    آنکھوں میں شان صولتِ سرکار بو تراب

    پیاسا رکھا جنہوں نے انہیں سیر کر دیا

    اس جود پر ہے آج تری تیغ زہر آب

    میداں میں اس کے حسن و ہنر دیکھ کر نعیمؔ

    حیرت سے بدحواس تھے جتنے تھے شیخ و شاب

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 06)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے