Font by Mehr Nastaliq Web

تکتے رہتے ہیں عجب طرح سے راہِ امید

نعیم الدین مرادآبادی

تکتے رہتے ہیں عجب طرح سے راہِ امید

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    تکتے رہتے ہیں عجب طرح سے راہِ امید

    حسرتِ دید تماشائے نگاہِ امید

    بند کس واسطے کی آپ نے راہِ امید

    یہ تو فرمائیے کیا دیکھا گناہِ امید

    بے نیازی نے تری مار ہی ڈالا ہوتا

    خیر سے بچ گئے ہم پا کے پناہِ امید

    روز غم بھی ہیں شب ہجر کی صورت تاریک

    ہیں خوش آئند مگر شام و پگاہِ امید

    ہم سے کھنچتے ہو مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کبھی

    کھینچ ہی لائے گی حضرت کو سپاہِ امید

    آپ اتنا تو سمجھیے کہ لگی رہتی ہے

    آپ کے لطف پہ سرکار نگاہِ امید

    آپ جاتے ہیں مرے گھر سے تو یہ یاد رہے

    چھوڑ کر آئے ہیں منعمِ کو تباہِ امید

    مأخذ :
    • کتاب : Riyaz-e-Naeem (Pg. 09)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے