Font by Mehr Nastaliq Web

اجڑے ہوئے دیار کو عرشِ بریں بنائیں تو

نعیم الدین مرادآبادی

اجڑے ہوئے دیار کو عرشِ بریں بنائیں تو

نعیم الدین مرادآبادی

MORE BYنعیم الدین مرادآبادی

    اجڑے ہوئے دیار کو عرشِ بریں بنائیں تو

    ان پہ فدا ہے دل مرا ناز سے دل میں آئیں تو

    کشتہ عشق سیدا آپ کے نام پر مرے

    جلوہ انہیں دکھائیے آپ اگر جلائیں تو

    دور و الم کے مبتلا جن کی کہیں نہ ہو دوا

    دیکھیں وہ شانِ کبریا آپ کے در پہ آئیں تو

    کرتے ہیں کس پہ کچھ ستم کیوں ہو کسی کو رنج و غم

    مولد مصطفیٰ کی ہم عید اگر منائیں تو

    بد ہیں اگرچہ ہم حضور آپ کے ہیں مگر ضرور

    کس کو سنائیں حالِ دل تم کو نہیں سنائیں تو

    آپ کے در پہ گر نہ آئیں کون سا در ہے جس پہ جائیں

    سامنے کس کے سر جھکائیں آپ ہمیں بتائیں تو

    حال مرا تباہ ہے نامہ مرا سیاہ ہے

    ہیچ مرا گناہ ہے آپ اگر بچائیں تو

    دل کی مراد ان کی دید دید ہے ان کے دل کی عید

    عید نہیں ہے کچھ بعید لطف سے گر بلائیں تو

    صد مے فراق ہجر کے کس سے یہ غمزدہ کہے

    تو ہی اگر کرم کرے درد نہاں سنائیں تو

    رفع ہیں فتح کے اثر پیش ہیں کسر کے ضرر

    زیر کو کیجیے زبر نصب عدد اٹھائیں تو

    کرنے کو جان و دل فدا روضۂ پاک پر شہا

    پہنچے نعیمؔ بے نوا آپ اگر بلائیں تو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے