Font by Mehr Nastaliq Web

تیرے نام سے ہے سکونِ دل ترا ذکر وجہِ قرار

نفیس لکھنوی

تیرے نام سے ہے سکونِ دل ترا ذکر وجہِ قرار

نفیس لکھنوی

MORE BYنفیس لکھنوی

    تیرے نام سے ہے سکونِ دل ترا ذکر وجہِ قرار

    تری یاد پر شہِ بحروبر! مری زندگی کا مدار ہے

    وہ حرم کی پاک جلالتیں وہ حریمِ قدس کی تابشیں

    ہوئیں جب سے ان کی زیارتیں، نہ سکون ہے نہ قرار ہے

    وہ نشاطِ کیفِ مشاہدہ مجھے یاد ہے مجھے یاد ہے

    جو وہاں ذرا سی پلائی تھی مجھے اب تک اس کا خمار ہے

    کوئی مسکراتا ہے با ادب کوئی رو رہا ہے بہ چشمِ تر

    کوئی مست ہے کوئی دم بخود کسی لب پہ ان کی پکار ہے

    اے نسیم! سر کو جھکا کے چل یہ ادب کی جا ہے ذرا سنبھل

    جہاں عظمتیں ہیں جھکی ہوئی یہ انہی کا پاک دیار ہے

    وہ جو سو رہا ہے مدینے میں! کوئی جا کے اس کو یہ دے خبر

    ترے اک غلامِ حقیر کو نہ سکون ہے نہ قرار ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے