عطا قدموں میں ہو دائم حضوری یا رسول الله
عطا قدموں میں ہو دائم حضوری یا رسول اللہ
ہے اب ناقابلِ برداشت دوری یا رسول اللہ
عنائت ہو اگر اک لمحہ اپنی خاص خلوت کا
مجھے اک عرض کرنی ہے ضروری یا رسول اللہ
اجازت ہو تو کچھ چشمانِ تر سے بھی یہاں کر لوں
ابھی ہے داستانِ غم ادھوری یا رسول اللہ
مری غائت تمنا ہے درِ اقدس کی دربانی
زہے عزت اگر ہو جائے پوری یا رسول اللہ
مدینہ ہی میں اگر راحت و تسکین پاتی ہے
دل فرقت زدہ کی ناصبوری یا رسول اللہ
دمِ رخصت نفیسؔ اشکوں سے تر ہے رحم فرماؤ
خدا را اک جھلک ہلکی سی نوری یا رسول اللہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.