اب حسیں دل ہیں نہ ان کی یاد اب پہلو میں ہے
اب حسیں دل ہیں نہ ان کی یاد اب پہلو میں ہے
آج کل الجھا ہوا دل شاہ کے گیسو میں ہے
دیدۂ تر خونِ دل شامل یہ کیوں آنسو میں ہے
جب تشفی کے لیے یادِ نبی پہلو میں ہے
ہجر احمد میں ہوا ہوں اس قدر گریہ کناں
نوح کے طوفان کا عالم ہر اک آنسو میں ہے
کعبۂ مسلم جدا ہے کعبۂ دل ہے جدا
سجدہ گاہِ عاشقاں محرابِ دو ابرو میں ہے
در پہ پیشانی گھسوں آنکھوں کو تلوؤں سے ملوں
یہ تمنا ساتھ لے کر دل مرے پہلو میں ہے
کیا مدینہ کے چمن سے ہو کے آئی ہے ابھی
کس لیے یہ دلکشی قُمری تری کو کو میں ہے
الفتِ حضرت کا نافذؔ ایک ادنیٰ ہے یہ وصف
یہ کمالِ نعت گوئی اور پھر ہندو میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.