Font by Mehr Nastaliq Web

اب حسیں دل ہیں نہ ان کی یاد اب پہلو میں ہے

نافذ دہلوی

اب حسیں دل ہیں نہ ان کی یاد اب پہلو میں ہے

نافذ دہلوی

MORE BYنافذ دہلوی

    اب حسیں دل ہیں نہ ان کی یاد اب پہلو میں ہے

    آج کل الجھا ہوا دل شاہ کے گیسو میں ہے

    دیدۂ تر خونِ دل شامل یہ کیوں آنسو میں ہے

    جب تشفی کے لیے یادِ نبی پہلو میں ہے

    ہجر احمد میں ہوا ہوں اس قدر گریہ کناں

    نوح کے طوفان کا عالم ہر اک آنسو میں ہے

    کعبۂ مسلم جدا ہے کعبۂ دل ہے جدا

    سجدہ گاہِ عاشقاں محرابِ دو ابرو میں ہے

    در پہ پیشانی گھسوں آنکھوں کو تلوؤں سے ملوں

    یہ تمنا ساتھ لے کر دل مرے پہلو میں ہے

    کیا مدینہ کے چمن سے ہو کے آئی ہے ابھی

    کس لیے یہ دلکشی قُمری تری کو کو میں ہے

    الفتِ حضرت کا نافذؔ ایک ادنیٰ ہے یہ وصف

    یہ کمالِ نعت گوئی اور پھر ہندو میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے