Font by Mehr Nastaliq Web

ہوئی انسانیت کی شمع روشن شان و شوکت سے

نحیف دہلوی جولئیس

ہوئی انسانیت کی شمع روشن شان و شوکت سے

نحیف دہلوی جولئیس

MORE BYنحیف دہلوی جولئیس

    ہوئی انسانیت کی شمع روشن شان و شوکت سے

    ہر اک دل جگمگا اٹھا چراغِ شانِ وحدت سے

    فلک پر چاند بھی شرما گیا حسن لطافت سے

    منور کیوں نہ ہو جائے زمانہ شمعِ الفت سے

    یہ ساری روشنی دنیا میں شاہِ انبیا کی ہے

    جہاں بھر میں ہوا مشہور افسانہ محمد کا

    مبارک ہے جو کہلاتا ہے دیوانہ محمد کا

    ملا ہر امتی کو خوب نذرانہ محمد کا

    بڑے ہی ناز سے کہتا ہے مستانہ محمد کا

    محبت سارے عالم کو شہ روزِ جزا کی ہے

    زمیں روشن زماں روشن ہوا سارا جہاں روشن

    فلک پر دیکھیے کیسی ہوئی ہے کہکشاں روشن

    تجلی سے نظر آنے لگے کون و مکاں روشن

    نحیفؔ زار کیسے ہیں زمیں و آسماں روشن

    مہ و انجم میں دیکھو روشنی صلِ علیٰ کی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے