ہوئی انسانیت کی شمع روشن شان و شوکت سے
ہوئی انسانیت کی شمع روشن شان و شوکت سے
ہر اک دل جگمگا اٹھا چراغِ شانِ وحدت سے
فلک پر چاند بھی شرما گیا حسن لطافت سے
منور کیوں نہ ہو جائے زمانہ شمعِ الفت سے
یہ ساری روشنی دنیا میں شاہِ انبیا کی ہے
جہاں بھر میں ہوا مشہور افسانہ محمد کا
مبارک ہے جو کہلاتا ہے دیوانہ محمد کا
ملا ہر امتی کو خوب نذرانہ محمد کا
بڑے ہی ناز سے کہتا ہے مستانہ محمد کا
محبت سارے عالم کو شہ روزِ جزا کی ہے
زمیں روشن زماں روشن ہوا سارا جہاں روشن
فلک پر دیکھیے کیسی ہوئی ہے کہکشاں روشن
تجلی سے نظر آنے لگے کون و مکاں روشن
نحیفؔ زار کیسے ہیں زمیں و آسماں روشن
مہ و انجم میں دیکھو روشنی صلِ علیٰ کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.