ساقی دکھا دے معجزہ دورِ شراب میں
ساقی دکھا دے معجزہ دورِ شراب میں
بھر آفتاب کو قدحِ ماہتاب میں
ہم رند ہیں ہمیں مئے و ساغر سے کام ہے
پڑتے نہیں ہیں فکر ثواب و عذاب میں
اب تو شراب خواریوں کی کوئی حد نہیں
جاتے ہیں روز محکمۂ احتساب میں
بے کیف رہ کے خلق میں جینے کا کیا مزہ
پیدا ہے زندگی کی حلاوت شراب میں
پوشیدہ ہے شراب میں یوں نشۂ شراب
جس طرح برق رہتی ہے پنہاں سحاب میں
حیرت ہے کیسے مجمعِ اضداد ہوگیا
ساقی یہ کس نے آگ ملا دی ہے آب میں
داروئے غم دوائے دلِ ناصبور ہے
ہے کیفِ بادہ وجہ سکوں اضطراب میں
پیری میں ہے یہ از سرِ نو دل کا ولولہ
اور فطرۃً شریک ہے رنگِ شباب میں
زاہد کو بھی کرم سے بنا رند ساقیا
تر کر دے آج جامۂ تقویٰ شراب میں
یکساں نظر رموزِ خفی و جلی پہ تھی
پایا نہ کوئی فرق شہود و حجاب میں
اوصاف جو کتابِ خدا میں ہیں مجتمع
ہیں جمع ذاتِ جامعِ ام الکتاب میں
نفسِ رسول مظہرِ ذاتِ الہٰ ہے
ہے شانِ حق نمود، خدا ہے حجاب میں
دیکھی ہے جب سے تیغ یداللہ کی چمک
پنہاں ہوئی ہے خوف سے بجلی سحاب میں
دانندۂ رموزِ مشیت ازل سے ہیں
تھا لوحِ دل میں جو ہے خدا کی کتاب میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.