جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
ہر کوئی فدا ہے بن دیکھے تو دیدار کا عالم کیا ہوگا
قدموں میں جبیں کو رھنے دو چہرے کا تصور مشکل ھے
جب چاند سے بڑھ کر ایڑی ھے تو رخسار کا عالم کیا ھوگا
اک سمت علی اک سمت عمر صدیق اِدھر عثمان اُدھر
ان جگمگ جگمگ تاروں میں ماہتاب کا عالم کیا ہو گا
جس وقت تھے خدمت میں ان کی ابو بکر و عمر عثمان و علی
اس وقت رسول اکرم کے دربار کا عالم کیا ہوگا
چاہیں تو اشاروں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دنیا کی
یہ شان ہے ان کے غلاموں کی تو سرکار کا عالم ہوگا
کہتے ہیں عرب کے ذروں پر انوار کی بارش ہوتی ہے
اے نجمؔ نہ جانے طیبہ کے گلزار کا عالم کیا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.