Font by Mehr Nastaliq Web

مچلتا ہے دل ڈبڈباتی ہیں آنکھیں

نجمؔ نعمانی

مچلتا ہے دل ڈبڈباتی ہیں آنکھیں

نجمؔ نعمانی

MORE BYنجمؔ نعمانی

    مچلتا ہے دل ڈبڈباتی ہیں آنکھیں

    خدا جانے کیسا مقام آ رہا ہے

    ادب سے نگاہوں کو اپنی جھکالو

    وہ دیکھو وہ باب السلام آ رہا ہے

    حبیبِ خدا پیشوائے زمانہ

    وہ نورِ مجسم رسول یگانہ

    ملائک بھلا کیوں نہ دیں پھر سلامی

    خدا کی طرف سے سلام آ رہا ہے

    بڑی شان ان کو عطا کی خدا نے

    فرشتے بھی آتے ہیں سر کو جھکانے

    رسولِ گرامی کے روضے پہ دیکھو

    زمانہ بصد احترام آ رہا ہے

    جب آئیں گے محشر میں آقا ہمارے

    وہ سب عاصیوں بیکسوں کے سہارے

    تو سب انبیا بھی کریں گے اشارے

    وہ کل انبیا کا امام آ رہا ہے

    انہیں دیکھ کر امتی یہ کہیں گے

    نہ اب مبتلائے مصیبت رہیں گے

    نہیں کوئی نارِ جہنم کا کھٹکا

    وہ دیکھو شفیعِ انام آ رہا ہے

    محبت سے عرشِ بریں کو سنوارا

    یہ معراج کی شب خدا نے پکارا

    فرشتو ادھر آؤ دھومیں مچاؤ

    مرا آج ماہِ تمام آرہا ہے

    نہیں کوئی دشواریوں کا مجھے غم

    مربی ہیں جب میرے شاہِ دوعالم

    نہ کیوں کر ہوں پھر مشکلیں میری آساں

    زباں پر محمد کا نام آ رہا ہے

    یہی نام ہے درد مندوں کا چارا

    یہی نام ہے بیکسوں کا سہارا

    یہی نام مشکل کشا ہے ہمارا

    یہی نام مشکل میں کام آ رہا ہے

    قیامت میں نجمؔ سخنور جب آئے

    تو ہوں اس کے سر پر کملیا کے سائے

    کوئی یوں پکارے کہ رستے کو چھوڑو

    رسولِ خدا کا غلام آ رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے