وہ حسنِ مجسم نورِ خدا نظروں میں سمائے جاتے ہیں
وہ حسنِ مجسم نورِ خدا نظروں میں سمائے جاتے ہیں
سبحان اللہ توحید کی مئے آنکھوں سے پلائے جاتے ہیں
دکھ درد کے مارو آؤ چلو، آقا کے درِ اقدس پہ چلیں
سنتے ہیں کہ ان کے کوچے میں دکھ درد مٹائے جاتے ہیں
جو سائل در پر آتے ہیں لے جاتے ہیں دامن بھر بھر کر
رحمت کے خزانے شاہِ جہاں دن رات لٹائے جاتے ہیں
کچھ سوچ سمجھ اے چارہ گر ناحق کوشش بے سود نہ کر
دیوانے ساقئ کوثر کے کب ہوش میں لائے جاتے ہیں
اس نور محمد صلِ علیٰ کی ایک جھلک دکھلانے سے
کوہِ طور جلایا جاتا ہے اور ہوش اڑائے جاتے ہیں
دل میں تو شوقِ حضوری ہے بے زر ہیں مگر مجبوری ہے
بے آس ہمیں دل کرتا ہے ہم آس دلائے جاتے ہیں
مِل جائے گی تجھ کو دولتِ دیں اے نجمؔ حزیں چل تو بھی وہیں
دنیا کے سلاطیں جس در پر جھولی پھیلائے جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.