Font by Mehr Nastaliq Web

رسولِ خدا کی غلامی میں کیا ہے ذرا تم غلامی میں آ کر تو دیکھو

نجمؔ نعمانی

رسولِ خدا کی غلامی میں کیا ہے ذرا تم غلامی میں آ کر تو دیکھو

نجمؔ نعمانی

MORE BYنجمؔ نعمانی

    رسولِ خدا کی غلامی میں کیا ہے ذرا تم غلامی میں آ کر تو دیکھو

    غلامی یہ ہے بادشاہی سے بہتر اِدھر آؤ قسمت جگا کر تو دیکھو

    حبیبِ خدا کے غلاموں کے آگے سر تاجداراں بھی خم ہو رہے ہیں

    کسی تاجور کی حقیقت ہی کیا ہے تم ان کی غلامی میں آکر تو دیکھو

    فضیلت بڑی ہے درِ مصطفیٰ کی برستی ہے اس در پہ رحمت خدا کی

    یہاں کیف و مستی کا عالم ہے طاری دلوں میں تصور جما کر تو دیکھو

    وہ دیکھو دو عالم یہاں جھک رہے ہیں وہ جن و بشر قدسیاں جھک رہے ہیں

    جو تم کو بھی ہے فیض پانے کی خواہش جبینِ عقیدت جھکا کر تو دیکھو

    دو عالم کی دولت ہے عشقِ نبی میں یہ ہے حاصِل بندگی زندگی میں

    سرورِ دوامی تمہیں بھی ملے گا محبت کی دنیا بسا کر تو دیکھو

    محمد محمد ہی وردِ زباں ہو دلوں میں نہ کچھ فکر سود و زیاں ہو

    اسی نامِ نامی کی برکت سے اپنا ذرا تم مقدر بنا کر تو دیکھو

    حیات النبی ہیں وہ سب کی ہیں سنتے یقیں ہے ہمیں اپنا دیدار دیں گے

    کبھی روتے روتے ہوئے سر بسجدہ بصد عجز تم گڑگڑا کر تو دیکھو

    نگاہِ کرم کی یہ تاثیر دیکھی پلٹتی زمانے کی تقدیر دیکھی

    یہ امرِ مسلم ہے سب دور ہوں گے انہیں داغ دل کے دکھا کے تو دیکھو

    جمالِ خدا ہے جمالِ محمد فصلوا علیہ و آلِ محمد

    مصور ہی تصویر میں جلوہ گر ہے حقیقت سے پردے اٹھا کر تو دیکھو

    فقط عبد کچھ عبدہ بات کچھ ہے فقط جسم کچھ ہے مگر ذات کچھ ہے

    احد اور احمد میں پردہ یہی ہے تم آنکھوں سے پردہ اٹھا کر تو دیکھو

    محبت کے دعوے تو آساں ہے کرنا ہے مشکل مگر نجمؔ الفت میں مرنا

    حسین ابنِ حیدر کی مانند یارو محبت میں سر کو کٹا کر تو دیکھو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے