Font by Mehr Nastaliq Web

میں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہوگئی

نجمہ شاہین

میں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہوگئی

نجمہ شاہین

MORE BYنجمہ شاہین

    میں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہوگئی

    روح مردہ تھی لیکن مجھے یوں لگا زندگی ہوگئی

    پھر سحابِ کرم سے خزاؤں میں بھی پھول کھلنے لگے

    دیکھ کر سبز گنبد بہاروں سے بس دوستی ہوگئی

    ہے مرے واسطے تو یہ روشن مدینہ ہی روشن جہاں

    چاند یثرب سے ابھرا تو چاروں طرف چاندنی ہوگئی

    آپ علم و محبت کا پیغام لے کر جو آئے تو پھر

    بس وہ ظلمت جہالت جہاں میں بہت اجنبی ہوگئی

    میرا ماتھا چمکنے لگے گا میں خود بھی نکھر جاؤں گی

    دھول شہرِ نبی کی جبیں پر اگر دائمی ہوگئی

    تھی جو اک کیفیت رنج اور درد کی کب سے گھیرے ہوئے

    مجھ پر ان کے کرم کی نظر جو پڑی وہ خوشی ہوگئی

    آپ کی شان کے لفظ ملتے نہ تھے میں پریشان تھی

    آپ نے لفظ بھیجے تو آقا مری نعت بھی ہوگئی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے