جب حسین ابن علی پائیں پیمبر کا مزاج
جب حسین ابن علی پائیں پیمبر کا مزاج
پھر نہ کیوں قائم رکھیں محراب و منبر کا مزاج
فاطمہ زہرا کے در کی خاک کا ہے یہ اثر
ماہِ تاباں سے بھی بڑھ جاتا ہے اختر کا مزاج
گر ملیں جبریل تو ان سے کوئی پوچھے ذرا
تیغ حیدر نے کبھی پوچھا تھا شہپر کا مزاج
جب حسین ابن علی ہیں سیدِ شبانِ خلد
پھر نہ ہو کیوں عرش پر ہر عبدِ سرور کا مزاج
تھے جو دونوں شاہزادے وارثِ خلقِ عظیم
لایقِ تقلید ہے شبیر و شبر کا مزاج
تاج و تختِ شام ان کی راہ میں آتے ہی کیوں
جانتے ہوتے اگر وہ ان کی ٹھوکر کا مزاج
زیرِ خاکِ کربلا آرام سے سونے بھی دو
اب نہ پوچھو دوستو نقویِؔ مضطر کا مزاج
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.