ثنائے ربِ جلیل ہے اور روشنی ہے
نبی کا ذکرِ جمیل ہے اور روشنی ہے
جہاں جہاں بھی حضور اکرم نے پاؤں رکھا
قدم قدم اک دلیل ہے اور روشنی ہے
چہار سو ہے کبوتروں کا حصارِ ابیض
سفید سی اک فصیل ہے اور روشنی ہے
حیات کی یا ممات کی آزمائشیں ہوں
وہی کفیل و وکیل ہے اور روشنی ہے
وہیں پہنچ کر خدا سے ہوں گے قریب تر ہم
جہاں خدا کا خلیل ہے اور روشنی ہے
میں تشنگی اور تیرگی کا ڈسا ہوا ہوں
وہ میٹھے پانی کی جھیل ہے اور روشنی ہے
حیاتِ احمد کا لمحہ لمحہ، مرے سفر میں
نفس نفس سنگِ میل ہے اور روشنی ہے
میں ایک کشکول بن کے خیرات کا ہوں طالب
ادھر عطا کی سبیل ہے اور روشنی ہے
ازل سے جو مؤجزن ہے آبِ رواں کی صورت
درود کا رودِ نیل ہے اور روشنی ہے
نسیمؔ لب پر جو ان کی مدحت کے گل کھلے ہیں
سخن کی اک سلسبیل ہے اور روشنی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.