مدینے جو چلنے کا وقت آ رہا ہے
مدینے جو چلنے کا وقت آ رہا ہے
گناہوں کے دھلنے کا وقت آ رہا ہے
طلا ہوں محمد کے روضے کی جانب
کہ قسمت چمکنے کا وقت آ رہا ہے
قدم بہ قدم دل مچلتا ہے میرا
مدینے میں بسنے کا وقت آ رہا ہے
وہ چھائیں گھٹائیں گھٹا ٹوپ سر پر
کہ رحمت برسنے کا وقت آ رہا ہے
شفا مجھ کو خاک مدینہ سے ہوگی
شفایاب ہونے کا وقت آ رہا ہے
میں آقا کے در سے نہ جاؤں گا خالی
کہ جھولی بھرنے کا وقت آ رہا ہے
گدائی ملے گی نصیرؔ ان کے در کی
مدینے میں رہنے کا وقت آ رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.