Font by Mehr Nastaliq Web

بنائے کن فکاں نورِ خدا کی بات کرتے ہیں

نشتر لکھنوی

بنائے کن فکاں نورِ خدا کی بات کرتے ہیں

نشتر لکھنوی

MORE BYنشتر لکھنوی

    بنائے کن فکاں نورِ خدا کی بات کرتے ہیں

    ادب کے ساتھ ختم الانبیا کی بات کرتے ہیں

    سلامی دیتی ہیں پلکیں نگاہیں جھوم جاتی ہیں

    خوشی میں جب حبیبِ کبریا کی بات کرتے ہیں

    غرض تسنیم و کوثر سے نہ ہم کو کام جنت سے

    کہ ہم دل سے محمد مصطفیٰ کی بات کرتے ہیں

    مٹائیں ظلمتیں جس نے دکھائی راہِ حق جس نے

    ہم اس نورِ خدا اس رہنما کی بات کرتے ہیں

    نہ کیوں حسنِ سخن پر ہوں ہماری رحمتیں صدقے

    زباں کوثر سے دھو کر مصطفیٰ کی بات کرتے ہیں

    ہمیں دوزخ کی کیا پرواہ ہمیں کیوں ڈر ہو محشر کا

    ہم عاصی شافعِ روزِ جزا کی بات کرتے ہیں

    سلام اس ذاتِ عالی پر درود اس نورِ اقدس پر

    پڑھو صلِ علیٰ ہم مصطفیٰ کی بات کرتے ہیں

    یہ ہیں جن و بشر کیا شے خدا کے ہم زباں ہو کر

    فرشتے بھی درِ خیرالوریٰ کی بات کرتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے