جنابِ محمد شہ انبیا تھے
جنابِ محمد شہ انبیا تھے
مگر دستگیر امیر و گدا تھے
طلسمِ عداوت کو حضرت نے توڑا
خلائق میں رشتہ محبت کا جوڑا
یتیموں کے محسن نگہبان تھے وہ
غریبوں پہ سو دل سے قربان تھے وہ
گناہوں کے جس وقت طوفاں بپا تھے
وہی کشتی دہر کے ناخدا تھے
کئے صاف پہلے تو دل کاوشوں سے
جلا دی پھر اخلاق کی تابشوں سے
بچایا ہر انسان کو لغزشوں سے
رہائی جہاں کو ملی شورشوں سے
ہدایت کا دنیا میں پیغام لائے
وہ شمع تجلائے اسلام لائے
نہ کی رنج و غم کی شکایت کسی سے
نہ رکھی جہاں میں عداوت کسی سے
نہ غصہ نہ خفگی نہ نخوت کسی سے
نہ کینہ نہ رنجش نہ نفرت کسی سے
میسر یہ قدرت کسی کو کہاں تھی
زبانِ محمد خدا کی زباں تھی
زمانہ میں کس طرح رہتی غلامی
کہ تھے آپ آزادیوں کی پیامی
ہیں ممنونِ احسانِ ذاتِ گرامی
عراقی و ترکی حجازی و شامی
فقط ایک نشترؔ ہی کیا مدح خواں ہے
ثنا خواں محمد کا سارا جہاں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.