زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
زمیں میلی نہیں ہوتی زمن میلا نہیں ہوتا
محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا
محبت کملی والے سے وہ جذبہ ہے سنو لوگو
یہ جس من میں سما جائے وہ من میلا نہیں ہوتا
نبی کے پاک لنگر پر جو پلتے ہیں کبھی ان کی
زباں میلی نہیں ہوتی سخن میلا نہیں ہوتا
میرے آقا کی الفت تو بدن کو جگمگاتی ہے
کبھی اہل محمد کا بدن میلا نہیں ہوتا
گلوں کو چوم لیتے ہیں سحر نم شبنمی قطرے
نبی کی نعت سن لیں تو چمن میلا نہیں ہوتا
جو نام مصطفیٰ چومیں کبھی دکھتی نہیں آنکھیں
پہن لے پیار جو انکا بدن میلا نہیں ہوتا
میں نازاں تو نہیں فن پر مگر ناصرؔ یہ دعویٰ ہے
ثنائے مصطفیٰ کرنے سے فن میلا نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.