زندگی میں اگر تاب و تب چاہیے
زندگی میں اگر تاب و تب چاہیے
دل میں تنویرِ ماہِ عرب چاہیے
رنج و غم کی کڑی دھوپ کیا چیز ہے
سر پہ سایۂ محبوب رب چاہیے
یہ عبادت ہے سودا گری تو نہیں
سجدہ و بندگی بے طلب چاہیے
منزلِ عشقِ احمد ہے صبر آزما
راہرو بے نیازِ تعب چاہیے
سر جھکائے ہوئے سوئے طیبہ چلو
یہ زیارت بہ عجز و ادب چاہیے
کیا نہیں میرے داتا کے بھنڈار میں
بہرِ در یوزہ حسنِ طلب چاہیے
ہے یہی صابرؔ اب صورت عافیت
یادِ خیرالبشر روز و شب چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.