Font by Mehr Nastaliq Web

ثنا ہو کس سے تیری اے شہِ بلند وقار

نواب رستم علی

ثنا ہو کس سے تیری اے شہِ بلند وقار

نواب رستم علی

MORE BYنواب رستم علی

    دلچسپ معلومات

    قصیدہ در شان خواجہ معین الدین چشتی (اجمیر-راجستھان)

    ثنا ہو کس سے تیری اے شہِ بلند وقار

    کہ منکشف ہیں حقیقت کے تجھ پہ سب اسرار

    ترا وہ مرتبہ ہے خاص عشق داور میں

    سر آستاں پہ جھکا تے ہیں اولیائے کبار

    کوئی نہیں تری درگاہ سے پھرا محروم

    ہر ایک شخص کو ہے تجھ سے فیض لیل و نہار

    مزا نہ جائے کبھی دل سے عشق خالق کا

    وہ مئے پلا کہ نہ ہو حشر تک بھی جس کا اتار

    ہر ایک شخص نہ کیوں تجھ سے فیضیاب رہے

    کہ تیرا فیض بھی جاری ہے مثل ابر بہار

    ترا نظیر نہ پیدا ہو دوسرا کوئی

    پھرے ہزار برس بھی جو گنبد دوّار

    نہ کیوں کہ دیکھنے والے کا دل منور ہو

    ہیں نور کے تری درگاہ کے در و دیوار

    بغیر تیری مدد کے نہیں ہے کچھ ممکن

    یہ جانتا ہوں حقیقت کی راہ ہے دشوار

    کیا ہے جب سے تیرے در پہ قصد آنے کا

    دل و جگر ہیں میری پیشوائی کو تیار

    کبھی تو خواب میں دکھلائیے جمال اپنا

    دل طپیدہ کو دیجے کبھی تو تاب و قرار

    بھرے نہ کیوں گلِ مقصد سے دامن خواہش

    سوال رد نہیں کرتا کسی کا تو زنہار

    بجز حسد نہیں حاسد کو کچھ نصیب اب تک

    یہ خاکسار کو بخشا ہے تو نے عز و وقار

    پڑھوں یہ مدح کبھی روضۂ منور پر

    جو تلخ کام ہو سیراب تشنۂ دیدار

    یہی تو مانگ دعا رستمؔ اپنے خالق سے

    کہ مجھ کو جلد دکھا پھر حضور کا تو مزار

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے