ثنا ہو کس سے تیری اے شہِ بلند وقار
دلچسپ معلومات
قصیدہ در شان خواجہ معین الدین چشتی (اجمیر-راجستھان)
ثنا ہو کس سے تیری اے شہِ بلند وقار
کہ منکشف ہیں حقیقت کے تجھ پہ سب اسرار
ترا وہ مرتبہ ہے خاص عشق داور میں
سر آستاں پہ جھکا تے ہیں اولیائے کبار
کوئی نہیں تری درگاہ سے پھرا محروم
ہر ایک شخص کو ہے تجھ سے فیض لیل و نہار
مزا نہ جائے کبھی دل سے عشق خالق کا
وہ مئے پلا کہ نہ ہو حشر تک بھی جس کا اتار
ہر ایک شخص نہ کیوں تجھ سے فیضیاب رہے
کہ تیرا فیض بھی جاری ہے مثل ابر بہار
ترا نظیر نہ پیدا ہو دوسرا کوئی
پھرے ہزار برس بھی جو گنبد دوّار
نہ کیوں کہ دیکھنے والے کا دل منور ہو
ہیں نور کے تری درگاہ کے در و دیوار
بغیر تیری مدد کے نہیں ہے کچھ ممکن
یہ جانتا ہوں حقیقت کی راہ ہے دشوار
کیا ہے جب سے تیرے در پہ قصد آنے کا
دل و جگر ہیں میری پیشوائی کو تیار
کبھی تو خواب میں دکھلائیے جمال اپنا
دل طپیدہ کو دیجے کبھی تو تاب و قرار
بھرے نہ کیوں گلِ مقصد سے دامن خواہش
سوال رد نہیں کرتا کسی کا تو زنہار
بجز حسد نہیں حاسد کو کچھ نصیب اب تک
یہ خاکسار کو بخشا ہے تو نے عز و وقار
پڑھوں یہ مدح کبھی روضۂ منور پر
جو تلخ کام ہو سیراب تشنۂ دیدار
یہی تو مانگ دعا رستمؔ اپنے خالق سے
کہ مجھ کو جلد دکھا پھر حضور کا تو مزار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.