جو رنگِ بے رنگِ اولیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
دلچسپ معلومات
منقبت در شان خواجہ معین الدین چشتی (اجمیر-راجستھان)
جو رنگِ بے رنگِ اولیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
جو طرۂ تاج کا ملیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
نہ کیوں ہو عشق خدا میں یکتا کہ علم ہے اس کو معرت کا
جو عالمِ سرِ عارفیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
نہ کیوں ہو راز خدا سے ماہر کہ خلوت خاص میں ہے حاضر
جو پردۂ قدس سے قریں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
نہ کیوں ہو بے مثل اور یکتا کہ کوئی اس کا نہیں ہے ہمتا
جو بحر حق کا دُر ثمیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
ہے اس کا دریائے فیض جاری نہ سہل کیوں مشکلیں ہوں ساری
جو مرسلِ ختم مرسلیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
خزاں کا جس کو نہیں ہے کھٹکا جو باغ عالم میں گل ہے یکتا
جو سرو گلزار آفریں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
قدم نہ حق سے ڈِگا ہو جس کا کلام سرِ خدا ہو جس کا
جو رہ نمائے رہِ یقیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
جو مخزنِ سرِ کبریا ہے جو معدنِ راز انبیا ہے
جو ملکِ عرفان کا سیر بیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
وہی ہے خلقِ خدا کا رہبر اسی کا سکہ ہے نقد دل پر
جو صاحبِ تاج اور نگیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
اسی سے حل مشکلیں ہیں ساری اسی کا فیض و کرم ہے جاری
ہمیشہ رستمؔ کا جو معیں ہے معین الدیں ہے معین الدیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.