تیری سیرت کی عظمت سے جو واقف ہو جاتا ہے
تیری سیرت کی عظمت سے جو واقف ہو جاتا ہے
مؤمن ہو یا کافر کوئی تیرے ہی گن گاتا ہے
جب بھی حمد سرا ہوتا ہوں یہ بھی ہے اعجاز ترا
بعد خدا کے میرے لب پر نام ترا ہی آتا ہے
روضے کے دیدار کی خواہش محور میری سوچوں کا
صبح و شام جدائی کا غم رہ رہ کر تڑپاتا ہے
شکر خدا کا شامل میرا نام ہے تیری امت میں
اس اکرام پہ رشک مجھے خود اپنے آپ پر آتا ہے
رہ کر دور مدینے سے یہ جینا بھی کیا جینا ہے
تیری یاد کے آتے ہی غم اشکوں میں ڈھل جاتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.