ہماری ہو دعاؤں میں اثر، ایسا بھی دن آئے
ہماری ہو دعاؤں میں اثر، ایسا بھی دن آئے
مدینے کا کریں ہم بھی سفر، ایسا بھی دن آئے
جہاں بٹتی ہے ہر شام و سحر خیرات رحمت کی
خدا دکھلائے وہ طیبہ نگر، ایسا بھی دن آئے
درِ اقدس پہ جا بیٹھوں، وہیں پہ موت آ جائے
دعا ہے بس یہی شام و سحر ایسا بھی دن آئے
بہت ایام دیکھے سرخوشی کے، اب یہ خواہش ہے
ملے اذنِ حضوری کی خبر، ایسا بھی دن آئے
نگاہوں میں مری ہر دم رہے تصویر روضے کی
وہی تصویر بن جائے نظر، ایسا بھی دن آئے
نہ سامانِ سفر کوئی نہ کوئی ساتھ ہو بے شک
میرے آنسو ہوں میرے ہم سفر، ایسا بھی دن آئے
سدا ہو سامنے آنکھوں کے یا رب گنبدِ خضریٰ
یوں ہی ہو زندگی باقی بسر ایسا بھی دن آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.