Font by Mehr Nastaliq Web

لہرا کے گھٹا آئی گل بادہ بہ جام آئے

نظر لکھنوی

لہرا کے گھٹا آئی گل بادہ بہ جام آئے

نظر لکھنوی

MORE BYنظر لکھنوی

    لہرا کے گھٹا آئی گل بادہ بہ جام آئے

    کوثر کی فضاؤں سے ساقی کا پیام آئے

    اشعار لکھوں ایسے میں مدحِ محمد میں

    قرطاس پہ خامے کو اندازِ خرام آئے

    یہ حکمِ مشیت ہے صف بستہ رہیں قدسی

    جب بزم میں تاروں کی وہ ماہِ تمام آئے

    وہ بت کدۂ آذر بن جائے نہ کیوں کعبہ

    جس دل میں محبت ہو جو دل ترے کام آئے

    افلاک کی راہوں سے گزرے ہیں محمد جب

    خاموش فضاؤں سے تاروں کے سلام آئے

    دل نذر کروں میں بھی ایمانِ محبت میں

    مجھ کو بھی تمنا ہے جلوہ گہہِ عام آئے

    دیباچۂ ہستی میں عنواں ہو نظرؔ یہ بھی

    اس نعتِ محمد میں میرا کہیں نام آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے