Font by Mehr Nastaliq Web

حقیت کے شمس و قمر شاہ قاتل

نازش حیدری دہلوی

حقیت کے شمس و قمر شاہ قاتل

نازش حیدری دہلوی

MORE BYنازش حیدری دہلوی

    دلچسپ معلومات

    نوٹ: یہ مشاعرہ حضرت قاتلؔ اجمیری کے عرس کی مناسبت سے عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں منعقد ہوا تھا، اس مشاعرے کی صدارت بہزادؔ لکھنوی نے فرمائی تھی، جبکہ مصرعِ طرح ’’تمہیں ڈھونڈتی ہے نظر شاہِ قاتل‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔

    حقیت کے شمس و قمر شاہ قاتل

    نظر میں ہیں شام و سحر شاہ قاتل

    تصوف سے ہیں با خبر شاہ قاتل

    مسائل سے ہیں بہرہ ور شاہ قاتل

    خدا نے کہاں ان کو پہنچا دیا ہے

    ہیں مہمانِ خیرالبشر شاہ قاتل

    سلوک وطریقت میں اور معرفت میں

    مسافر ہیں ہم! راہبر شاہ قاتل

    فنا میں بقا ان کو حاصل ہوئی ہے

    اُدھر زندگی ہے جدھر شاہ قاتل

    رہا آج بھی امتیاز ان کا باقی

    نمایاں رہے عمر بھر شاہ قاتل

    جو مسلک تھا ان کا وہ رومی کا مسلک

    یہاں بھی ہیں پیشِ نظر شاہ قاتل

    عقیدت گزاری میں ہے محو نازشؔ

    نظر اس کے بھی حال پر شاہ قاتل

    مأخذ :
    • کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 40)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے