ذبیحِ اعظم کے خاندان میں حبیب ربِ حسیب آیا
ذبیحِ اعظم کے خاندان میں حبیب ربِ حسیب آیا
سناتا وحدت کا پیارا نغمہ خدا کا وہ عندلیب آیا
ربیع الاول میں تیرے صدقے میں تجھ پہ واری میں تیرے قرباں
نبی کے آنے کا مژدہ لے کر تو ایک ماہِ عجیب آیا
عمر ہوں صدیق ہوں کہ عثماں علی ہوں یا ہوں بلال و حساں
وہ جنتی ہے بشرطِ ایماں جو مصطفیٰ کے قریب آیا
وہ جس کا ہلکا سا اک تبسم حیاتِ نو کا پیام لائے
لعاب میں مژدۂ شفا لے کے کیسے حاذق طبیب آیا
نبیِ امی کہ جس کو رب نے زمانے بھر کے علوم بخشے
قرآن کا معجزہ لیے وہ کلامِ رب کا نقیب آیا
عرب کے فصحا بھی جس کے آگے زبان اپنی نہ کھول پائے
بلاغتوں کے گہر لٹاتا فصیحِ کامل خطیب آیا
یہ کس کو اسریٰ کی رات رب نے طلب کیا لامکاں سے آگے
یہ کون آخر بہ شکل انساں خدا کے اتنے قریب آیا
پڑھی جو نظمیؔ نے نعتِ سرور تو سارا مجمع یہ بول اٹھا
یہ شاہِ برکات کے گھرانے سے کون اک خوش نصیب آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.