Font by Mehr Nastaliq Web

مدحِ سرکار میں نعتیں میں سناتا رہتا

نظمی مارہروی

مدحِ سرکار میں نعتیں میں سناتا رہتا

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    مدحِ سرکار میں نعتیں میں سناتا رہتا

    اپنی سوئی ہوئی تقدیر جگاتا رہتا

    طیبہ کی راہ میں جو قافلے مجھ کو ملتے

    شوقِ دیدار انھیں اپنا دکھاتا رہتا

    کیاری جنت کی مجھے دیتی عبادت کا سکوں

    ان کی محراب میں سر اپنا جھکاتا رہتا

    لوگ کہتے مجھے دیوانہ نبی کے در کا

    ہوش کو اپنے میں مستی میں چھپاتا رہتا

    بابِ جبریل پہ میں بیٹھتا قدموں کی طرف

    ان کے گنبد کو میں آنکھوں میں سماتا رہتا

    دعوتِ بوسہ مجھے جالیاں دیتی رہتیں

    میں فقط دید سے پیاس اپنی بجھاتا رہتا

    پھر مواجہ سے کرن نور کی مجھ تک آتی

    نوری برسات میں گھنٹوں میں نہاتا رہتا

    حسرتیں پوری مری ہوتیں جو حکمِ رب سے

    شکر کا فرض میں دن رات نبھاتا رہتا

    کرمِ رب سے جو طیبہ میں جگہ مل جاتی

    نظمیؔ لکھ لکھ کے نئی نعتیں سناتا رہتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے