Font by Mehr Nastaliq Web

آرزوئیں کیسی ہیں کاش یوں ہوا ہوتا

نظمی مارہروی

آرزوئیں کیسی ہیں کاش یوں ہوا ہوتا

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    آرزوئیں کیسی ہیں کاش یوں ہوا ہوتا

    بو جہل کے ہاتھوں میں کنکری بنا ہوتا

    اپنے آقا کے آگے کلمہ تو پڑھا ہوتا

    غیب داں نبی کا ایک معجزہ بنا ہوتا

    آرزوئیں کیسی ہیں کاش یوں ہوا ہوتا

    میں بھی کعبہ کی چھت پر بت بنا گڑا ہوتا

    آقا کے اشارے پر اوندھا گر گیا ہوتا

    اور ان کے قدموں کا بوسہ لے لیا ہوتا

    خاک پائے اقدس کا حصہ بن گیا ہوتا

    آرزوئیں کیسی ہیں کاش یوں ہوا ہوتا

    کاش میں حلیمہ کی بکری ہی رہا ہوتا

    آقا مجھ کو لے جاتے بن میں چر رہا ہوتا

    دودھ دوہتے آقا اپنے دست اقدس سے

    آج تک مقدر پر ناز کر رہا ہوتا

    آرزوئیں کیسی ہیں کاش یوں ہوا ہوتا

    ایک چٹان کی صورت کاش میں رہا ہوتا

    آقا پاؤں رکھ دیتے موم بن گیا ہوتا

    نوری عکس قدموں کا دل میں بھر لیا ہوتا

    ان کے جاں نثاروں کے دل میں بس گیا ہوتا

    آرزوئیں کیسی ہیں کاش یوں ہوا ہوتا

    کاش اپنے آقا کا نعلِ پاک ہی ہوتا

    ہمہ وقت قدموں سے لپٹا ہی رہا ہوتا

    جب کبھی میں پھٹ جاتا اپنے ہاتھ سے گٹھتے

    تاج داروں کے سر کا تاج بن گیا ہوتا

    آرزوئیں کیسی ہیں کاش یوں ہوا ہوتا

    کاش اپنے آقا کی اونٹنی ہی رہا ہوتا

    قصویٰ قصویٰ کہہ کہہ کر مجھ کو ہانکتے جاتے

    میری پیٹھ پر کرتے کعبے کا طواف آقا

    حشر میں بھی آقا کے زانوؤں تلے رہتا

    آرزوئیں کیسی ہیں کاش یوں ہوا ہوتا

    نظمیؔ تم تو بھولے ہو ایسا کیوں ہوا ہوتا

    آلِ فاطمہ ہونا رب نے جب لکھا ہوتا

    اہل بیت میں ہونا رب نے جب لکھا ہوتا

    آلِ مصطفیٰ ہونا رب نے جب لکھا ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے