حبیبِ رب علا محمد
حبیبِ رب علا محمد
نشانِ نور خدا محمد
دکھی دلوں کی صدا محمد
شفیعِ روزِ جزا محمد
وہی مزمل وہی مدثر
مرادِ شمس و ضحیٰ محمد
انہیں کے دم سے جہاں میں رونق
بہارِ ارض و سما محمد
وہ دیکھو محشر میں ہر زباں پر
بس ایک نعرہ ہے یا محمد
وہ جانِ عیسیٰ وہ شانِ موسیٰ
خلیل کی ہیں دعا محمد
خدا نے چاہا تو قبر میں ہم
پڑھیں گے صلِ علیٰ محمد
قلم رکھا نظمیؔ نے یہ کہہ کر
خدائی کے ناخدا محمد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.