Font by Mehr Nastaliq Web

حج کے وہ منظر سہانے ہم کو یاد آئے بہت

نظمی مارہروی

حج کے وہ منظر سہانے ہم کو یاد آئے بہت

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    حج کے وہ منظر سہانے ہم کو یاد آئے بہت

    لوٹ کر اپنے وطن کو ہم تو پچھتائے بہت

    بابِ ابراہیم سے کعبے کا منظر واہ واہ

    ہم تصور میں وہ لمحے اپنے بھر لائے بہت

    ملتزم میزابِ رحمت سنگِ اسود اور حطیم

    ہر ادا کعبے کی میرے دل کو تڑپائے بہت

    ہوں صفا مروہ کے چکر یا ہو کعبے کا طواف

    ہر قدم پر اپنی قسمت پر ہم اترائے بہت

    سنگِ ابراہیم کے پیچھے نوافل بھی پڑھے

    ایک اک سجدہ وہاں پر دل کو گرمائے بہت

    نور سے معمور پربت پر جو ہے غارِ حرا

    واقعہ اقرا یہاں آ کر کے یاد آئے بہت

    مسجدِ نمرہ کی وسعت جبلِ رحمت کا جلال

    اور سناٹا احد کا دل کو دہلائے بہت

    آبِ زمزم جب پیا تب پیٹ بھر بھر کر پیا

    نظمیؔ اپنی روح کو سیراب کر لائے بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے