بیچ منجدھار میں ہے میرا سفینہ یا رب
بیچ منجدھار میں ہے میرا سفینہ یا رب
مجھ کو ساحل سے لگا بہرِ مدینہ یا رب
میرے لب کھلتے ہیں آمین فرشتے کہہ دیں
دے مجھے ایسی دعاؤں کا قرینہ یا رب
جس کی خوشبو پہ ہے سو جاں سے فدا مشکِ ختن
مجھ کو اک بار سنگھا دے وہ پسینہ یا رب
بادشاہوں سے بھی بڑھ جاؤں جو مل جائے مجھے
تیرے محبوب کی الفت کا نگینہ یا رب
جب سے لوٹا ہوں وطن دل کی عجب حالت ہے
مجھ کو دکھلا دے پھر اک بار مدینہ یا رب
تیری رحمت کا طلب گار ہے نظمیؔ تیرا
کر عطا اس کو عبادات کا زینہ یا رب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.