سجدہ گاہِ قلبِ مؤمن آستانِ مصطفیٰ
سجدہ گاہِ قلبِ مؤمن آستانِ مصطفیٰ
افتخارِ نور و نکہت گلستانِ مصطفیٰ
باعثِ ایجاد خلقت، سرِ وحدت ظلِ رب
احمد و محمود و حامد نام و شانِ مصطفیٰ
جانِ رحمت قاسمِ نعمت حبیب کبریا
ترجمانِ کلمۂ وحدت لسانِ مصطفیٰ
آیۂ تطہیر جس کی شان میں نازل ہوئی
نوری پیکر میں ڈھلا ہے خاندانِ مصطفیٰ
حضرتِ آدم کو ان کے نور سے برکت ملی
انبیا سے کوئی پوچھے عز و شانِ مصطفیٰ
عاشقانِ مصطفیٰ پر ہے کرم اللہ کا
جلتے رہتے ہیں جلیں گے دشمنانِ مصطفیٰ
بے اجازت جبرئیل اندر کبھی آتے نہ تھے
عرش کو ہے رشک جس پر وہ مکانِ مصطفیٰ
یاں پلک جھپکی نہیں معراج کامل ہو گئی
عرش اعظم بن گیا تھا پائیدانِ مصطفیٰ
انبیا تک جس کے سائے کے لیے بے تاب ہوں
سب سے اونچا حشر میں ہوگا نشانِ مصطفیٰ
باپ ہیں میرے علیِ مرتضیٰ مشکل کشا
اور ماں ہیں فاطمہ یعنی کہ جانِ مصطفیٰ
کل کو جب میزان پر اعمال تولے جائیں گے
مغفرت پا جائیں گے ہم خادمانِ مصطفیٰ
دین کی تشہیر بھی ہوتی ہے کیا شمشیر سے؟
امن پر مبنی رہی ہے داستانِ مصطفیٰ
اپنے ناموں سے دیا اللہ نے ان کو شرف
رفعت و عظمت نشاں ہے ذکر و شانِ مصطفیٰ
ان کو نبیوں میں ملا سردار و سید کا لقب
ہر زمانے سے فزوں تر ہے زمانِ مصطفیٰ
حضرتِ صدیق و فاروق و غنی مشکل کشا
تھے اسی ترتیب میں یہ دوستانِ مصطفیٰ
نعتِ احمد سربسر قرآن کا ایک ایک ورق
نظمی عاصی کرے گا کیا بیانِ مصطفیٰ
عشقی و عینی و نوری کا تجھے صدقہ ملا
تو بھی نظمیؔ کہہ لے خود کو نعت خوانِ مصطفیٰ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.