راحت فزا ہے سایۂ دامانِ مصطفیٰ
راحت فزا ہے سایۂ دامانِ مصطفیٰ
رحمت کا آبشار ہیں چشمانِ مصطفیٰ
ہوتی ہے نور ہی سے ہمیں نور کی شناخت
عرفانِ کردگار ہے عرفانِ مصطفیٰ
حیوان سے بنایا ہے انسان با خدا
ہم عاصیوں پہ ہے یہی احسانِ مصطفیٰ
سروِ چمن علی ہیں تو ہیں فاطمہ کلی
سبطینِ پاک ہیں گلِ بستان مصطفیٰ
حضرت عتیق اور عمر عثمان اور علی
ہیں چار عین خاصہء خاصانِ مصطفیٰ
ایمان سے ملی جنھیں نسبت رسول کی
شاہوں کے حکمراں ہیں غلامانِ مصطفیٰ
مارہرہ کو الٰہی تو آباد رکھ سدا
پھولا پھلا رہے چمنستانِ مصطفیٰ
منکر نکیر قبر میں پوچھیں گے جب سوال
کہہ دوں گا میں ہوں نظمیؔ ثنا خوانِ مصطفیٰ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.