Font by Mehr Nastaliq Web

نورِ احمد کی حقیقت کو جو پہچان گیا

نظمی مارہروی

نورِ احمد کی حقیقت کو جو پہچان گیا

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    نورِ احمد کی حقیقت کو جو پہچان گیا

    نور سے نور ملا کرتا ہے یہ جان گیا

    پل کے پل عالمِ جبروت کے پردے اٹھے

    عرش سے آگے کی منزل پہ جب انسان گیا

    فضلِ رب سے ملی سرکار کو ایسی قدرت

    اک اشارہ کیا سورج بھی کہا مان گیا

    خود سے پوچھا جو کبھی اپنا پتہ بھولے سے

    جانے کیوں کوچۂ طیبہ کی طرف دھیان گیا

    ان کی عظمت کی یہی ایک نشانی بس ہے

    دل ذرا سا بھی پھرا ان سے کہ ایمان گیا

    اس طرف رحمت خلاقِ دو عالم برسی

    نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

    نعت پڑھتا ہوا نظمیؔ جو سر رہ گزرا

    لوگ کہہ اٹھے لو وہ نائبِ حسان گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے