Font by Mehr Nastaliq Web

منشا مرا بیانِ حیاتِ رسول بس

نظمی مارہروی

منشا مرا بیانِ حیاتِ رسول بس

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    منشا مرا بیانِ حیاتِ رسول بس

    مقصد مرا رضائے خدا کا حصول بس

    پروانہ کو ہے شمع تو بھنورے کو پھول بس

    عاشق کو نعلِ سیدِ عالم کی دھول بس

    اللہ نے حبیب کا خود ہی کیا دفاع

    کوثر کی پڑھ کے دیکھیے شانِ نزول بس

    نعتِ رسول پاک ہے اس کا ورق ورق

    ظاہر میں ہے قرآن کتابِ اصول بس

    چوما تھا ایک روز عمامہ رسول کا

    جنت میں جائے گا وہی خارِ ببول بس

    یوں تو چمن میں اور بھی غنچے کئی کھلے

    نکہت فزا ہیں فاطمہ زہرا کے پھول بس

    ہم جس دعا کے اول و آخر پڑھیں درود

    حاصل اسی دعا کو ہو شرفِ قبول بس

    مل جائے کاش نظمیؔ کو حسان کی زباں

    پڑھتا رہے ہمیشہ ثنائے رسول بس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے