Font by Mehr Nastaliq Web

جانِ ایماں ہے شہِ دیں کی عداوت سے گریز

نظمی مارہروی

جانِ ایماں ہے شہِ دیں کی عداوت سے گریز

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    جانِ ایماں ہے شہِ دیں کی عداوت سے گریز

    باعثِ قہرِِ خدا ہے ان کی سنت سے گریز

    جو رسول اللہ کی قدرت پہ شک ظاہر کرے

    ہم پہ لازم ہے کریں ایسے کی صحبت سے گریز

    صاحبِ سبعِ سنابل نے سکھایا ہے یہی

    ہر ولی کرتا ہے اظہارِ کرامت سے گریز

    ہو زباں شیریں تو کیا مشکل ہے تسخیرِ قلوب

    سنتِ نبوی ہے استعمالِِ طاقت سے گریز

    عشقِ محبوب خدا ہو جس کے دل میں جا گزیں

    کیوں نہ ہو نظمی اسے دنیا کی دولت سے گریز

    جو نبی کے علم کو شیطان سے کم تر کہے

    نظمیؔ کرنا چاہیے ایسے کی صحبت سے گریز

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے