Font by Mehr Nastaliq Web

کب تک رہوں مرے خدا کوئے نبی سے دور دور

نظمی مارہروی

کب تک رہوں مرے خدا کوئے نبی سے دور دور

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    کب تک رہوں مرے خدا کوئے نبی سے دور دور

    کب تک گذاروں زندگی میں زندگی سے دور دور

    طیبہ سے دوریاں مجھے برداشت کیسے ہوسکیں

    ایک ایک پل برا لگے ان کی گلی سے دور دور

    میری حیات و موت ہے عشقِ نبی پہ منحصر

    کیسے رہوں تمہی کہو اس عاشقی سے دور دور

    رکھتا ہے دل میں بغض جو خلفائے راشدین سے

    وہ ہے خبیث رافضی مولیٰ علی سے دور دور

    شیطان کے مرید کی پہچان ایک یہ بھی ہے

    درگاہوں سے پرے پرے، غوث و ولی سے دور دور

    میری ہر ایک سانس میں ذکرِ شہِ عرب رہے

    رکھنا مرے خدا مجھے شر سے بدی سے دور دور

    ہم نے تو کچھ کہا نہیں ہم نے تو کچھ کیا نہیں

    کچھ لوگ یوں ہی ہو گئے اپنی خوشی سے دور دور

    نظمیؔ ہر ایک کام میں مرشد کا اپنے نام لو

    ہر کام اس طرح رہے بے برکتی سے دور دور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے