Font by Mehr Nastaliq Web

کیا ہوا آج کہ خوشبو سی ہوا میں ہے تجلی سی فضا میں ہے مہکتی ہوئی گلیاں ہیں چٹکتی ہوئی کلیاں ہیں چمن کیف میں جھومے ہے فلک وجد میں گھومے ہے سجی آج یقینا کہیں پھر نعت کی محفل

نظمی مارہروی

کیا ہوا آج کہ خوشبو سی ہوا میں ہے تجلی سی فضا میں ہے مہکتی ہوئی گلیاں ہیں چٹکتی ہوئی کلیاں ہیں چمن کیف میں جھومے ہے فلک وجد میں گھومے ہے سجی آج یقینا کہیں پھر نعت کی محفل

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    کیا ہوا آج کہ خوشبو سی ہوا میں ہے تجلی سی فضا میں ہے مہکتی ہوئی گلیاں ہیں چٹکتی ہوئی کلیاں ہیں چمن کیف میں جھومے ہے فلک وجد میں گھومے ہے سجی آج یقینا کہیں پھر نعت کی محفل

    نکہتیں لیتی ہیں انگڑائیاں چو طرفہ ہیں رعنائیاں قدسی کی قطاریں ہیں درودوں کی بہاریں ہیں سماں برکتوں والا ہے اجالا ہی اجالا ہے کہ سرشار ہے آقا کی محبت میں ہر اک روح ہر اک دل

    رب نے سرکار کو ہر چیز میں کثرت سے نوازا ہے کلام ان پہ اتارا ہے شفیع ان کو بنایا ہے رسولوں کے وہ خاتم ہیں مکرم ہیں معظم ہیں قیامت کی گھڑی میں وہ امیدوں بھری ہر ایک کی منزل

    رب کی رحمت کے وہ ضامن ہیں بڑے ان کے محاسن ہیں وہ سرکارِ دو عالم ہیں دکھی دل کی وہ راحت ہیں گنہگاروں کے یاور ہیں اسیروں کے محافظ ہیں وہ طوفانِ حوادث کے بھنور میں ہیں ہر اک ناؤ کے ساحل

    زندگی ان کے ہی دم سے ہے جہاں ان کے کرم سے ہے وہی باعثِ خلقت ہیں وہ ماذونِ شفاعت ہیں وہ گنجینۂ رحمت ہیں جہاں والوں کے ہر کام میں ان کا ہی کرم رہتا ہے شامل

    مصحفِ پاک میں نعت ان کی خصوصی ہیں صفات ان کی رسولوں کے وہ سرور ہیں ہر اک جنس سے برتر ہیں منور ہیں معطر ہیں دو عالم کے وہ محور ہیں وہ مخلوقِ خدا کی ہر اک امید کے حاصل

    ان کے گن گائے ہیں نبیوں نے صحیفوں میں بیاں ان کا زمیں والوں میں ذکر ان کا فلک والوں میں نعت ان کی انہیں رب نے سراہا ہے کہ محبوب بنایا شبِ معراج بلایا ہیں سبھی عظمتیں ہیچ ان کے مقابل

    ان کے قدموں کا یہ صدقہ ہے دو عالم میں جو بٹتا ہے زمانے کو جو ملتا ہے زباں دانی انہیں کی ہے جہاں بانی انہیں کی ہے وہی جود سخا والے عطا والے نبی سارے انہیں کے در اقدس کے ہیں سائل

    عرش سے فرش تلک ان کا ہی چرچا ہے ہر اک لب پہ ثنا ان کی شجر ہو کہ حجر برگ و ثمر شمس و قمر خشکی و تر سب میں ہے نور ان کا ہر اک شے میں ظہور ان کا وہی رب کی عطا سے ہیں ہر اوصاف کے حامل

    فیض نظمیؔ پہ رضا کا ہے کلام اس کا مسجع ہے مقنیٰ ہے مرصع ہے سبھی کرتے ہیں حیرت کہ سخن کا یہ سلیقہ کہاں سیکھا کہ سخنور صفِ اول کے ترے فن تری ندرت تری مشاقی کے قائل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے